سپریم کورٹ نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا

اپ ڈیٹ 09 جون 2020 04:25am
فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ملک  میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت  کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نےتاحال کوروناسےتحفظ کی قانون سازی نہیں کی،جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی حکومت کوروناسےتحفظ کےاقدامات کررہی ہے،وفاقی حکومت ایس اوپیز پرعملدرآمد یقینی بنائے گی،وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ قومی سطح پر بھی کورونا سے تحفظ کیلئے کوئی قانون سازی ہونی چاہیئے ،جس کا اطلاق پورے ملک پرہوگا،ملک کےتمام ادارے کام کرسکتے ہیں توپارلیمنٹ کیوں نہیں؟۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نہیں معلوم کورونامریضوں کی تعداد کہاں جا کررکےگی ،کوروناوائرس صوبوں میں تفریق نہیں کرتا،وفاق کواس معاملےپرمرکزی کرداراداکرناچاہیئے،وفاقی حکومت کورونا سے بچاؤکیلئےقانون سازی کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں ہوا، چین میں وباء سے نمٹنے کیلئے فوری قانون بنائےگئے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عدالت لوگوں کے حقوق کی بات کررہی ہے،لوگوں کی زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے،موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کوخطرات لاحق ہیں،پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا  تحفظ نہیں ہوگا ،عوام کا تحفظ قانون بنانےاوراس پرعمل سےہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے،وقت کسی کاانتظارنہیں کرتا،آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا،ایک لاکھ سے زائد کوروناکیسز آگئے ہیں۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت سے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کی تجویز دوں گا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم توپہلےدن سے فنکشنل ہیں،عدالتیں بند نہیں کرسکتے،ہم بھی کورونا وائرس کی حدت کومحسوس کررہے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹرزکوحفاظتی سامان ہرحال میں دستیاب ہونا چاہیئے۔

جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے ،کورونا سے تحفظ کا حل قانون سازی ہےاورقانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہے ۔

جسٹس اعجازالاحسن  نے ریمارکس دیئے کہ خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونےسےکوئی نقصان ہواتوتلافی نہیں ہوگی،ورکرزکی ہلاکت پروزیراعلیٰ معاوضےکااعلان کردیتےہیں،عدالت ایسی چیزوں کی صرف نشاہدہی کرسکتی ہے ، قانون سازی کےعملی اقدامات ہرحال میں حکومت نےکرنےہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عید کے موقع پرہفتہ اتوارکومارکیٹس کھولی گئی تھیں، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ لوگوں میں تاحال آگہی نہیں آئی،عیدکےموقع پرلوگوں نےایس او پیزکونظراندازکیا،ویکسین کی دریافت سےقبل راستہ احتیاطی تدابیرہیں، کوروناکاوائرس بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کس طرح سےایس او پیز پر عمل ہوگا جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ شہریوں کوبھی ذمہ داری دکھانا ہوگی۔

ممبرلیگل این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ٹیسٹنگ کپیسٹی 30 ہزار سے بڑھ چکی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 30ہزارٹیسٹ تونہ ہونے کے برابر ہیں ، پاکستان کی آبادی تو22کروڑکی ہے۔

ممبرلیگل این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ٹیسٹ کی صلاحیت کوبڑھایا جائے گا،جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ این ڈی ایم اےصوبوں کوٹیسٹنگ صلاحیت بڑھانےکاکہے۔

ممبرلیگل این ڈی ایم اے نے بتایا کہ کوورنا ٹیسٹنگ کی100لیب قائم کی جا چکی ہیں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 22کروڑکیلئے صرف 100 لیب ؟100لیب صرف کورونامریضوں کیلئے ہیں،کیا باتیں کررہے ہیں،100لیب سے کیاہوگا،100لیب توصرف کراچی میں ہونی چاہیئے،اب تک کتنے کورونا مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئےہیں۔

جسٹس گلزار احمد نےمزید ریمارکس دیئے کہ جوسامان منگوایاگیااس کی دستاویزات ریکارڈپرکیوں نہیں ،یہ نہیں کہ آپ اپنی مرضی سےجومرضی کرتے پھریں ، تمام خریداری کاہم آڈٹ کرائیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ این ڈی ایم اے کومرضی سے کام کرنے کا لائسنس نہیں ملاہوا،این ڈی ایم اے کی ایک ایک چیز کا آڈٹ کرائیں گے،نہیں معلوم ترکی سے جہازلیزپرلے کرکس نے فائدہ اٹھایا،کیا این ڈی ایم اے ٹڈی دل کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان  نے حکومت سے ٹڈی دل کے حملوں سےہونے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلی۔

عدالت عظمیٰ نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان سے متعلق ریکارڈ اورتفصیلات طلب کرتے ہوئے ترکی سے ٹڈی دل اسپرے کیلئے جہازلیزپرلینے کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ نے ہفتہ اوراتوارکومارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لیتے ہوئے کورونا ازخود نوٹس کی سماعت 2ہفتوں  تک ملتوی۔